بلوچ پاکستان کا 11 سے 14 اگست کی جنگ کا لازوال داستان ۔ مجاہد بلوچ

Posted on

1212

قوموں کے آزادی کا کیا اہمیت ہے یہ صرف وہ قومیں جانتے ہیں جو ماضی میں غلامی کا شکار ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنے وطن کی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ یا وہ قوم جوابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور اپنی سرزمین کی آزادی جدوجہد میں برسرپکار ہیں جیسے کہ بلوچ قوم گزشتہ 70سالوں سے اپنی مادر وطن کی آزادی خاطر جانوں کا نزرانہ پیش کرکے اپنے سروں کی قربانیاں دیرے ہیں، اس لیئے بلوچ عوام ہر ملک اور قوم کی آزادی کے دن کو قدر کی نگا سے دیکھتی ہے، چاہیے بلوچ دوشمن پاکستان کا دن کیوں نہ ہو یہ اور بات ہے کہ بلوچ قوم یوم پاکستان کے دن کو یوم سیاہ کے طور مناتی ہے، وہ اس لیئے ضروری ہے کہ دشمن کی خوشی کے موقع پر اسے نفرت کا پیغام دیا جائے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی قیام سے بلوچ قوم کی آزادی انکے غلامی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ لیکن پاکستانی وہ قوم ہے جس کو نہ اپنی آزادی کا قدر ہے اور نہ دوسروں کی آزادی کا احساس کرتا ہے۔ پاکستانی فوج نے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی 14اگست کو بلوچستان میں زبردستی منانے کی کوشش کی اور بلوچ عوام کو پاکستان دن کی مناسبت تقربات میں شامل نہ ہونے پر سگین دھمکیاں دی گئی، جب انکے سرپرستی میں ملاوں اور ڈہتھ سکواڈ گروپوں کے کیمپوں میں بلوچوں کے خون پر جشن منانے سے بلوچ عوام نے انکار کیا توپاکستانی فوج نے طاقت کا مظاہرا کرتے ہوئے پورے بلوچستان میں ایک نئی انداز میں آپریشن کا آغاز کیا تاکہ بلوچوں کے دلوں میں خوف ڈر پیدہ ہوجائے اور اپنی سرزمین کی آزادی تحریک سے کنارا کشی کریں اور مجبورن پاکستان کی غلامی کو قبول کریں۔ لیکن پاکستانی قوم کا یاداشت بہت کمزور ہے وہ ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ پوری دنیا کی تاریخ میں بلوچ واحد قوم ہے انکے نوجوان سر کٹاسکتے ہیں مگر کسی بھی طاقت کے سامنے جھکتے نہیں۔ مگر اس غلط فہمی اور طاقت کے نشعے میں چورپاکستانی فوج نے 11 اگست کے صبح بلوچ سرمچاروں کے خلاف جنگ کا آغازکیا جو سنگسیلا سے لیکر پیلاوغ تک ریاستی فوج کے ہیلی کاپٹرز تین دن تک مسلسل گڑگڑاتے رہئے۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے پشینی کی اونچے اور دلکش پہاڑوں کے درمیان واقع سوری میں دشمن کے فوج نے ہیلی کاپٹرز اور زمینی فورسز کے ساتھ علاقائی دلالوں سمیت بلوچ ریپبلکن آرمی کے کمانڈر شیردل بگٹی عرف مجاہد کے کیمپ پر چاروں طرف دھوا بول دیا تھا اور جہاں بلوچ سرمچاروں کا دشمن فوج کے ساتھ گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی جسکے نتیجے میں ریاستی فورسز کی ایک ہیلی کاپٹر تباہ جبکہ درجنوں فوجی ہلکار مارے گے اور بلوچ سرمچار دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے اور دشمنوں کا حملہ پسپا کر دیا۔ انھوں نے جوابی کاروائی اتنی شدت سے کی کہ دشمن بھی ہمیشہ یاد رکھے گئی کہ کیسے مجاہدوں سے پالا پڑا، اور آزمائش کی اس گھڑی میں بی آر اے کی سرمچاروں نے جرأت و بہادری کی تاریخ میں ایک اور شاندار باب رقم کیا جومادر وطن کی دفاع کرتے ہوئے خود سے کئی گنا زیادہ دشمن کو خاک چٹاتے ہوئے بھاگنے پرمجبور کر دیا۔ کمانڈر شیردل بگٹی عرف مجاہد نے بہادری و دلیری کا علامت قائم کرتے ہوئے اپنے جنگی صلاحتوں کی بدولت اپنے ساتھیوں کو باحفاظت دشمن کے گھرے سے نکالنے کامیاب ہوئے۔ اسی طرح بلوچ تاریخ وطن کے سچا ثبوتوں کے شاندار کارناموں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہےجس کی بہادر، جرت اور ہمت کو بلوچ سرزمین کی فضائیں بھی سلام کرتی ہیں جو اپنے جانوں کا نزرانہ پیش کرتے ہوئے دشمن کے سامنے دیوار کی طرح کھڑے ہوتےہیں۔ لیکن بلوچ سرمچاروں سے شکست کا سامنا کرنے کے بعد قابض فورسز نےعام آبادیوں پر شیلنگ و بمباری کرکے 30 زائد نہتے معصوم لوگوں کوشہید کردیا جبکہ عورتوں بچوں سمیت کافی لوگ زخمی ہوئے۔ مگر دوسری جناب ریاستی اس مظالم کے ردعمل میں بلوچ ریپبلکن آرمی کے سرمچاروں نے ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر کئی حملے کیئے ہیں جن میں پیرکوہ گیس فیلڈ اور پیرکوہ میں آرمی قلعہ پر راکٹ حملے کیئے جس میں بی ایم بارہ میزائل کا بھی استعمال کیا گیا اسکے علاوہ پیرکوہ اور پتھر نالہ میں پاکستانی فورسز کے چوکی پر راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے مرو میں فورسز اور ڈیتھ سکواڈ کے کانوائے کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنانے کے بعد راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جو پیلاوغ میں بے گناہ بلوچوں کے قتل عام کے بعد ڈیرہ بگٹی کی طرف جارہے تھے اس دوران فورسز کے ساتھ کئی گھنٹے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں فورسز کے12اہلکار ہلاک اورکئی زخمی ہوگئے، جبکہ ڈیتھ سکواڈ کے 2 کارندے بھی مارے گئے، لیکن ریاستی فورسز کے ساتھ ان جھڑپوں میں بلوچ ریپبلکن آرمی کے ساتھی سرمچار انور بگٹی، میشو بگٹی، جھنڈا بگٹی اور ڈاکو بگٹی مادروطن کی دفاع میں شہید ہوئے جو 2005ء سے تحریک آزادی کیلئے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے بلوچ تاریخ میں شہید ہونے والے ڈیرہ بگٹی کے غازیوں کو اس جنگ کے ہیروز کے طور پر یاد رکھا جائے گا اورآنے والے نسل کو ان کے قربانیوں سے کیا جائے گا تاکہ اُن میں بھی وطن کیلئے جان قربان کردینے کے جذبات بیدار ہوسکیں۔

Advertisements