بلوچستان کا ٹائیگر اور راہِ حق پر چمکنے والا عظیم ستارا شہید نواب اکبر بگٹی۔ تحریر شیرباز بگٹی

Posted on

بلوچ تاریخ پرچمکنے والا عظیم ستارا شہید نواب اکبر خان بگٹی کے پیدائش 80 سال قبل 12 جولائی 1927ء میں بلوچستان کے شہر بارکھان میں ہوئی، آپ نے ابتدائی تعلیم ڈیرہ بگٹی اور لاہور کے ایچی سن کالج کے علاوہ برطانیہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں حاصل کی آپ ابھی تک زیرِ تعلیم تھے کہ 1939ء میں آپ کے والد صاحب سر نواب مہراب خان وفات پاگئے۔ اسکے بعد آپ بگٹی قبیلے کے انیسویں نواب بنے تھے اور جس کم عمری میں آپ نے بلوچ قوم کی رہنمائی کا بیڑہ اٹھایا تھا جو آج بھی شہادت کے بعد اسی طرح اپنے قوم کا رہنمائی کررہے ہیں،bugti

فکرِ بلوچستان شہید نواب اکبربگٹی نے 14 سال کی عمر سے لیکر 26 اگست 2006 ء سے بلوچ اور بلوچستان کی صدا بن کر اپنی 80 سالہ زندگی بلوچ قوم کیلئے قربان کردی۔ جس کی شہرت کا یہ عالم ہے کہ آج بلوچستان بھر سے یورپ، امریکہ سمیت پوری دُنیا میں شہید نواب اکبر بگٹی کی شہادت کا دسویں برسی جوش و جزبے سے منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر شہید نواب اکبر بگٹی کے زندگی کی جدوجہد پر روشنی ڈالینے کی خوائش مند کئی لکھاریاں اور دانشمند ہونگے مگر اس عظیم انسان کی زندگی کو بیان کرپانا کسی بھی دانشوار کیلئے آسان نہیں ہوگا کیونکہ آپ کے زندگی کے بارےمیں کسی بھی شخص کو اچھی طرح معلومات نہیں جو اپنی قلم کی سیاہوں سے ورق کا زینت بنائے، آپ کی زندگی دنیا میں پہلی ہوئی سمندر کی ماند ہے جسکو کوئی بھی شخص پوری طرح پار نہیں کرسکتا، آپ نے اپنی زندگی کا کتاب خود تحریر کرکے خود ہی پڑھ تھا اور جسکا مطالیہ کرنا اور سمجھنا دوسروں کیلئے بہت مشکل ہے۔ بلوچ نوجوان آپکے دیئے ہوئے راستے پر چل کر دنیا کی تاریخ میں انقلابی لیڈروں کی کردار پر نظر رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتے ہیں مگر آپکے زندگی کی کتاب الگ تحریر ہے۔

دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب قومیں آزادی جنگیں لڑتی ہیں تو جس میں لیڈر کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اور اس کے ویژن اور مشن ہی سے قومیں آزادی حاصل کرتی ہیں۔ لیڈر کی اہمیت کو پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے، کیونکہ قومیں اپنے لیڈروں کی قیادت میں منزلوں کی سمت سفر کرتی ہیں۔ اسی طرح اگر داستان کسی مظلوم قوم کا ہو یا بات لیڈر کی یا پھر ذکربلوچستان کی ہو تو جہاں شہید نواب اکبر بگٹی کے حوالہ دیئے بغیر ہر معضوں ادھورہ رہے جاتی ہے، کیونکہ دنیا کی لکھی ہوئی تاریخ میں ہم نےیہی پڑھ اور یہ سیکھا ہے کہ قوم کا حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے قوم کو مایوسی کی لہروں سے نکال کر احساس شعور پیدا کرے، یہی ایک فکری لیڈر کی سب سے بڑ ی خوبی ہوتی ہے۔ اگر شہید نواب اکبر بگٹی کے زندگی کی جدجہد پر نظر ڈالیں تو سیاسی میدان سے لیکر بلوچستان کے سنگلاک چٹانوں تک آپ نے ڈٹ کر ہر مشکل کا سامنا کیا اور بلوچ ننگ و ناموس پر آنچ تک آنے نہیں دیا۔ بلوچ تاریخ خود اس بات کی بار بار گواہی دیگی کہ آپ نے ہمیشہ بلوچ سرزمین کی دفع اور اپنی قوم کی مخلصانہ قیادت کی اور بلوچ قوم کو اس منزل تک پہنچایا جہاں سے انکو اپنی منزل صاف نظر آنے لگی ہے۔

جب آپ بلوچستان کے گورنر اور وزیر اعلی بنے تو آپ نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ بلوچ قوم کو گرانٹ و فنڈ کے نام پر خیرات نہیں بلکہ ہمیں بلوچستان کے ہر وسائل کے حصے کے واجبات ادا کئے جائیں اور آئندہ آمدنی کا حصہ بروقت ملنے کا میکانزم ترتیب دیا جائے۔

آپ نے پاکستانی اسمبلیوں میں اردو زبان کا بائیکاٹ کرکے جہاں بلوچی لباس پہننا اور بلوچی زبان بولنا، آپ کی بلوچ سرزمیں اور قوم سے محبت اور شناخت کو عیاں کرتی ہیں۔ برابری کی بنیاد اپنے اصولوں اور موقف کی وجہ سے پاکستانی ریاست اور ان کے اداروں کی نظروں میں ہمیشہ سوئ کی طرح چبتے رہے، اس لیے ریاستی اداروں نے1992 میں آپ کے فرزند سلال بگٹی کو کوئٹہ میں شہید کردیا۔ اسکے بعد آپ ڈیرہ بگٹی میں مقیم ہوگئے اور پاکستانی سیاست سے کنارا کشی ظاہر کی۔

ریاست پاکستان نے بلوچ سرزمین پر غیر ضروری جھاونیاں تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھگوادر کی ساحلی زمینوں کو بیرونی لوگوں سے فروخت کرنے کا آغاز کیا اور  پنجاب سمیت پاکستان کے دوسرے حصوں کے لوگ فوجی بیورو کریسی کے تعاون سے گوادر کی زمین کے مالک بن گے۔ اور ویہاں کے رہائش پذیر سینکڑوں کے تعد میں بلوچوں کو بے گھر کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ جب بلوچ عوام نے ڈیرہ بگٹی سمیت پوری بلوچستان میں اپنی سرزمین کی فروخت و خریداری کے خلاف احتجاج شروع کیا تو اسکے جواب میں ڈیرہ بگٹی، کوہلو، گوادر میں چھاونیوں کے قیام کا بھی علان کیا گیا۔  اس سے بلوچ قوم کو اچھی طرح یقین ہوگیا تھا کہ ہماری سرزمین کی فروخت کے بعد یہ چھاونیاں بلوچ قوم کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ ریاست کی ان منصوبوں کے خلاف آپ کے ساتھ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا، جب بلوچوں کی تمام سیاسی طریقے ان منصوبوں کو رکوانے کے لیئے ناکام ثابت ہوئے تو آپ نے بگٹی، مری، ڈومکی، راہئسانی، مزاری سمیت تمام بلوچوں کا قبائلی جنگ و چھڑپوں، کشت خون، ناراضگی اور رنجشوں کا خاتما کرکے بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کیلئے بلوچ قوم کو منظم کرنے کا آغاز کیا تو یہ بات ریاستی اجنسیوں کو کیسے ہضم ہوتا کہ وہ بلوچوں کو ایک دوسرے لڑانے میں دن رات ایک کررہے تھے، بلوچوں کے اس اتفاق اور اتحاد یکجہتی کو ختم کرنے کیلئے آپریشن کے سوا اور کوئی وجوہاد بھی نہیں تھا۔ اس لیے ایک منصوبے کے تحد ریاستی اجنسیاں اور مشرف کی حکم سے سوئی میں پی پی ایل میں کام کرنے والی ڈاکٹر شازیہ خالد کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تاکہ بلوچ اس پر ریکشن کریں تو انکو وہی جواز ملے جو چاہتا تھا اخر کار ہوا بھی وہی ۔ کیونکہ کورٹ کے فیصلے سے پہلے گِلٹی کیپٹن حماد کو مشرف نے آجو قرار دیا۔ حالانکہ ڈاکٹر شازیہ نے شناخت پریڈ میں حماد کی شناخت کی تھی، مگر مشرف نے ڈرا دھمکا کر ڈاکٹر شازیہ کو زبردستی جلاوطن کیا۔ جو ریکارڈ پر خود شازیہ کی زبانی موجود ہے۔

اس واقع کے بعد بلوچ سرمچاروں نے سوئی چھاونی میں گھس کر کرنل، کیپٹن سمیت درجنوں اہلکاروں کو مار دیا اور ریاست کو واصح پیغام دیا کہ بلوچ قوم اپنی نگ و ناموس اور چادرو چاردیوری کی احتساب کیسے کرتے ہیں۔ اس واقع کے بعد پنجاب کے چودرہی حرکت میں آئے اور ایک بار مزاکرات کرنے کی کوشش کی تو شہیدِا نواب اکبر خان بگٹی ڈیلاگ کے حامی ہوئےتھے۔ مگر مزاکرات اس لیئے ناکام ہوئی کہ ریاست ایک موقع کی تلاش میں تھا کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے بلوچ قوم کی آواز کو دبا کر ہمیشہ کیلئے غلام بنایا جائے۔

جب ریاستی فورسز نے موقع پاکر 17 مارچ 2005 میں آپکے رہائش گاہ پر حملہ کیا اور اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 70  لوگ شید ہوئے لیکن ریاستی فورسز کا پوری طرح نشانہ آپ ہی تھے مگر خوش قسمتی آپ محفوظ رہے اور ہمیشہ کی طرح دشمن کے سامنے شیر بن کر کھڑئے ہوگے اور بلوچ قوم اور بلوچستان کی بقا کے لیئے اپنا ڈیرہ بگٹی کے محل و ماڑی چھوڑ کر سنگسیلا کے پہاڑوں کا روخ کیا اور بانمبور و تراتانی اپنا مسکین بنا کر بلوچ سرمچاروں کی کمانگ اور بلوچ قومی آزادی تحریک کا قیادت اپنے ہاتھ میں لیا۔

26 اگست 2006 میں دشمن سے لڑتے ہوئے اپنے جانثار ساتھیوں سمیت شہادت نوش کرگئے اور بلوچ نوجوانوں کو راہِ حق پر چلنے کا سلیکا سیکھا دیا۔

لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ فوجی چھاونیوں اور طاقت سے حق کی آواز دبایا نہیں جاسکتا۔ مگر یہ بات سچ ہے کہ دشمن نے آپکو شہید کرکے جسمانی طور پر بلوچ قوم سے جدا کیا لیکن دشمن کا وہ خیال غلط ثابت ہوا جو سمجھتے تھے کہ آپ کے شہادت کے چند دن بعد یہ باب ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گا۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ آج بھی آپ ہمیشہ کی طرح اپنی قوم کی رہنمائی کرتے ہیں، بلوچ سرزمین کی آزادی خاطر آپکی دی ہوئی قربانی بلوچ نوجوانوں کو ہر ابھرتا ہوا سورچ اور ڈھلتی ہوئی شام اپنے ساتھ یہ احساس دلاتی ہے کہ شہید نواب بگٹی نے اپنا شہنشاہی زندگی کو ٹوکر مار کر پیرانہ سالی میں اپنی جسمانی بیماری و معذوری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے وطن کی حفاظت میں میدان جنگ میں اترگے اور اس بیماری کو محسوس کیا جو بلوچ قوم کی شناخت کو جسکا خطرہ ہے۔

آپ بلوچستان کا ٹائیگر پہلے ہی تھے اب انقلاب کی تاریخ پر چکمنے والا وہ عظیم ستارا بن گے جس کی چراگیں صرف بلوچ قوم کو نہیں بلکہ اس رہتی ہوئی دنیا میں ہر مظلوم قوم کو راہِ حق پر آواز بلند کرنے کیلئے کھڑا کرتا ہے۔ جو آپ نے 70 سال کی عمر میں راہِ آزادی پر چلتے ہوئے انقلاب کی منزل میں اتنے گہرے نقش چھوڑیں ہیں جو رہتی دنیا تک ہر مظلوم قوموں کی رہنمائی کرینگیں۔

بلوچ پاکستان کا 11 سے 14 اگست کی جنگ کا لازوال داستان ۔ مجاہد بلوچ

Posted on

1212

قوموں کے آزادی کا کیا اہمیت ہے یہ صرف وہ قومیں جانتے ہیں جو ماضی میں غلامی کا شکار ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنے وطن کی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ یا وہ قوم جوابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور اپنی سرزمین کی آزادی جدوجہد میں برسرپکار ہیں جیسے کہ بلوچ قوم گزشتہ 70سالوں سے اپنی مادر وطن کی آزادی خاطر جانوں کا نزرانہ پیش کرکے اپنے سروں کی قربانیاں دیرے ہیں، اس لیئے بلوچ عوام ہر ملک اور قوم کی آزادی کے دن کو قدر کی نگا سے دیکھتی ہے، چاہیے بلوچ دوشمن پاکستان کا دن کیوں نہ ہو یہ اور بات ہے کہ بلوچ قوم یوم پاکستان کے دن کو یوم سیاہ کے طور مناتی ہے، Read the rest of this entry »

The black deeds of BLF and hypocrisy of Karima Baloch – by Mujahid Baloch

Posted on

  • mujahed
  • Thanks to Baloch Republican Army for shutting up the mouth of a few propagandists by informing the Baloch nation about Sahiji incident in a detailed report. The statement exposed the ill-intentioned criticism and accusations against BRA and reiterated the fact that BRA is a responsible organization and considers it their duty to inform the nation about their actions.I am sure that every Baloch felt happiness after reading this statement of BRA because of realisation of the fact that those who fight for their safety and freedom are ready to be accountable for their deed before the nation. By taking this step, BRA has set an example that any institution or organization has to struggle according to a constitution based on the principle of freedom of Balochistan, and that they need to accountable in front of the nation which is a very essential part of the freedom movement. All other organizations should also adopt this principle.The nation should be encouraged by this extraordinary step of BRA to examine the performanceof other organizations as well, and question the people who play dubious roles in the name of Baloch national struggle but their real face is not different than BNP and National Party. In my view, even BNP and NP are better than these people because the former openly oppose the national struggle while the latter kill innocent Baloch in the name of the struggle. Today the nation demands Karima Baloch, BLF and BNM to present theirselves in the court of Baloch public and answer our questions.Some of the people killed during the military operation after their release from BRA custody are said to be members of Baloch National Movement, which was later confirmed by BNM leader Hammal Haidar. Now the question is: was BRA being targeted by Karima Baloch-led unjust and aggressive criticism because the aforementioned people were members of BNM? The Baloch nation asks Karima Baloch, Hammal Haider and the leadership of BNM to clarify their party policy in front of the masses because they claim to reject the constitution and parliament of Pakistan but their members (Sahiji incident victims) have been working against theBaloch national interest under the supervision of the Pakistani government. Which party policieswere those BNM members following by accepting Pakistan and working for its interest, while remaining in a pro-independence party? Was it in the knowledge of BNM that its member Raheem Baloch was working as a contractor on a link road associated with the so-called China-Pakistan Economic Corridor? Was it not BNM’s responsibility to investigate its member and interrogate him on why he was working against Baloch interest under state supervision? Does the constitution of BNM allow its members to be part of state-backed anti-Baloch activities?If the policies of Karima Baloch and BNM can allow their activists to be a part of state’s projects against the Baloch interest then i suggest that Karima Baloch and BNM should remove their double standards based tag of freedom struggle and declare their real policies like BNP and NP,
  • and openly join the state to run their illegal businesses of drugs and diesel smuggling under state-supervision like Shafiq Mengal, Siraj Raisani, Rashid Pathan, Sanallah Zehri and Sarfraz Bugti (aka Sarfraz Bhatti). Otherwise, they have to present themselves in the Baloch court and be held accountable. There is a huge list of innocent Baloch people who were killed after being labelled as traitors by BLF at the behest of BNM only because of personal enmity or after they refused to pay extortionmoney. On 9th September 2012, BLF claimed responsibility for killing Akhtar Rind s/o Behram after getting him killed through a family feud, but BLF never brought forward the true motives behind his killing. Why?In Shakro Bill area of Dasht, all members of a family including two women were brutally killed after being labelled as traitors. Their photos and videos were posted on Facebook but no proof of them being traitors was ever released. File closed.Besides, Jawan Malik w/o Habib and their son Niaz Habib were killed. Similarly, Jawan Malik’s sister Mayel and her son Diljan Omar were killed after being labelled as an informer but no evidence against them was ever published. Hammal s/o Sabzal and Late Niaz’s brother Hamzad s/o Habib were mercilessly killed at Bil Nagor cross in a similar pattern. Karima Baloch, what kind of justice is it to kill such a large number of innocent people and members of same family after accusing them of being traitors, but never giving any proof of theirwrongdoings?Ali Washdil was killed during a bet between BLF fighters on whose bullets will hit him first. Did Karima Baloch or anybody else ask BLF as to what was the crime of that man? Sharif s/o Ghulam Mohammad r/o Mand was killed because he couldn’t pay extortion money. Where were you Karima Baloch back then?Sister of young Nabil Baloch from Mand asked BLF through media to explain the killing of her brother and said that they would have no regret on his death if BLF provided evidence against him. She said they were not as sad on death of her brother as they were on the accusation against him for being an informer. BLF never provided any evidence and neither did Karima or BNP express any concerns.Similarly, the responsibility of killing Sameer Baloch from Mand was accepted but the answer to why he was killed was never given. BLF immediately accepted the responsibility of killing Chacha Ahmad Wahid Baksh’s son but never explained the reason for killing him.Two years ago, BLF accepted responsibility for killing two Baloch engineers in Hushkabad area of Tump but distanced itself from the killings the next day as a result of public reaction. No explanation, no apology, just a statement and justice served!
  • The list of black deeds of BLF in the name of Baloch national struggle is very long but i hope theones i mentioned will provide enough reason to Karima Baloch to demand BLF to present itself in the court of Baloch masses and be held accountable for all their black deeds.

Read the rest of this entry »

Sweden: BRP protests against rights violations and the abduction of Bugti women in Balochistan

Posted on

2Sweden: Baloch Republican Party Sweden chapter held a protest demonstration in Gothenburg demanding safe recovery of abducted Bugti women and a strong action against gross Human rights abuses in the occupied Balochistan being systematically accelerated by Pakistan’s armed forces. Read the rest of this entry »

‘Avidity towards study eventually compelled Abdul Jabbar Bugti to commit suicide. Translated by: Gohar Bugti

Posted on

jabarToday I am going to describe most sad story I have ever shared. Abdul Jabbar S/O Wahid Marettar, a 13 years old student of grade 7 resident of Bugra colony Sui area of Dera Bugti district,  committed suicide on Eid day, about 2:PM of 6th. Oct, 2014. Read the rest of this entry »

Blood-thirsty state targeting Baloch activists and IDPs even outside Balochistan – Sherbaz Bugti

Posted on

dTAn activist of Baloch Republican Party, Sher Baz Bugti has said in a statement that the blood-thirsty forces of Pakistan was creating difficulties for the life of Baloch activists even in abroad. He said that the armed goons of so-called “Peace Force” attacked the houses of Bugti Baloch IDPs in Nawabshah, Sindh on the directives of Sarfaraz Bugti, the Pakistani interior minister in Balochistan.

Sherbaz Bugti said that the sanctity of households were badly violated during the unwarranted raids and women and children were inhumanely tortured by the state-sponsored criminals.  Read the rest of this entry »